اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اقوام متحدہ ميں ايراني سفير نے افغان حكومت، ڈونرز اور اقوام متحدہ كے درميان مضبوط باہمي نقطہ نظر كا مطالبہ كيا ہے اور كہا ہے كہ افغانستان ميں دہشت گردي اور انتہاپسندي كي جڑيں بہت مضبوط ہيں جو كہ صرف فوجي تعميرات سے ختم نہيں كي جا سكتي ہيں.
يہ بات غلام علي خسرو نے اقوام متحدہ كي سلامتي كونسل كي جانب سے افغانستان كي صورتحال پر منعقدہ اجلاس ميں خطاب كرتے ہوئے كہي.
انہوں نے مزيد كہا كہ افغانستان ميں قومي اتحاد كو قائم كرنے كے لئے عالمي برادري كي جانب سے مزيد تعاون ناگزير ہے.
انہوں نے افغان دارالحكومت كابل ميں رمضان كے مہينے ميں 31 مئي 2017 كو ہونے والے دہشت گردي واقعے جس كے نتيجے ميں 80 سے زائد افراد جاں بحق اور سيكنڑوں افراد زخمي ہوئے اور 15 جون كو ايك شيعہ مسجد ميں ہونے والے حملوں ميں جاں بحق اور زخمي ہونے والوں كے لواحقين اور افغان حكومت سے تعزيت اور افسوس كا اظہار كيا.
اس موقع پر انہوں نے مزيد كہا كہ افغان قومي اتحاد كے لئے ہماري حمايت غير متفق ہے اور ہم افغان ملكيت اور افغان قيادت كي سلامتي كے عمل كے راستے ميں كسي بھي كاميابي كا استقبال كرتے ہيں جو ملك اور خطے ميں مستقل اور جامع امن كے لۓ لازمي ہيں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲